“Some call this world real, others deem it an illusion, while some assert both hold sway; Tulsidas says, cast off all three delusions, to know the True Self and find the Way.”
کوئی اس دنیا کو سچ کہتا ہے، کوئی اسے جھوٹ بتاتا ہے، اور کوئی ان دونوں ہی باتوں کو درست مانتا ہے۔ تلسی داس کہتے ہیں کہ جو ان تینوں وہموں کو چھوڑ دیتا ہے، وہی اپنی اصل ذات کو پہچانتا ہے۔
تُلسی داس جی اس کلام میں کائنات کی حقیقت پر ہونے والی بحثوں کا احاطہ کرتے ہیں، جہاں کوئی اس دنیا کو سچ سمجھتا ہے، کوئی محض سراب یا فریب، اور کوئی دونوں کا امتزاج۔ وہ پیار سے سمجھاتے ہیں کہ ان فکری بحثوں میں الجھے رہنا بھی ایک طرح کا وہم ہی ہے۔ انسان جب ان تینوں الجھنوں کو چھوڑ کر باطن کی طرف لوٹتا ہے، تب ہی اسے خود شناسی اور اپنی اصل ذات کا عرفان نصیب ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
