“O Keshav, words fail me, what is there to say? Beholding Your wondrous creation, the soul can only ponder in silent awe.”
اے کیشو، کچھ کہتے نہیں بنتا کہ کیا کہیں۔ آپ کی نہایت انوکھی تخلیق کو دیکھ کر انسان بس دل ہی دل میں سمجھ کر خاموش رہ جاتا ہے۔
اس شعر میں تلسی داس جی ایک ایسی روحانی حیرت کا اظہار کرتے ہیں جو انسان کو بالکل لاجواب کر دیتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اے پروردگار، آپ کی اس کائنات کے رنگ اور تخلیق کا طلسم اس قدر انوکھا ہے کہ کوئی لفظ اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ ان جلووں کی وسعت کے سامنے گفتگو کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے، اور انسان بس دل ہی دل میں ششدر رہ کر خاموش شکرگزاری میں ڈوب جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
