यथालाभ संतोष सदा काहू सों कछु न चहौंगो । परहित-निरत निरंतर मन क्रम बचन नेम निबहौंगो ॥

“Ever content with whatever comes my way, seeking nothing from anyone; devoted ever to the good of others, in thought, word, and deed, this sacred vow I shall uphold.”

— تلسی داس
معنی

جو کچھ بھی مل جائے اس پر ہمیشہ مطمئن رہوں گا اور کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ دل، قول اور عمل سے مسلسل دوسروں کی بھلائی میں مصروف رہنے کے اس اصول کو نبھاؤں گا۔

تشریح

اس کلام میں قناعت پسندی اور بے غرض خدمت کا ایک نہایت پاکیزہ اور قلندرانہ عہد نظر آتا ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ جو کچھ نصیب سے مل جائے اسی پر شاکر رہے اور کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہ کرے۔ اس اندرونی بے نیازی کے ساتھ ساتھ، اپنے دل، عمل اور زبان کو ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کے لیے وقف رکھنا ہی روحانی زندگی کا اصل مقصد ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.