बिषय-बारि मन-मीन भिन्न नहिं होत कबहुँ पल एक । तातेँ सहिय बिपति अति दारुन जनमत जोनि अनेक ॥

“Never for a moment does the fish of the mind part from desire's stream, / Hence it suffers direst sorrows, reborn endlessly through life's cruel dream.”

— تلسی داس
معنی

من کی مچھلی دنیاوی خواہشات کے پانی سے ایک پل بھی الگ نہیں ہوتی۔ اسی لیے اسے بے شمار جونوں میں جنم لیتے ہوئے سخت ترین مصائب جھیلنے پڑتے ہیں۔

تشریح

شاعر نے یہاں انسان کے بے چین دل کو مچھلی اور دنیاوی خواہشات و لذتوں کو پانی کی مانند قرار دیا ہے۔ جس طرح ایک مچھلی پانی سے ایک پل کے لیے بھی جدا نہیں رہ سکتی، اسی طرح ہمارا دل بھی نفسانی کشش سے الگ ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اس اندھے لگاؤ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ روح جنم مَرن اور لامتناہی تکلیفوں کے چکر میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.