“Though myriad tongues could not recount each grace of Thine divine, / Yet still I beg for something more, most gracious Lord of mine.”
کروڑوں زبانوں سے بھی مالک کے ایک ایک احسان کا شکر یا بیان ممکن نہیں، پھر بھی اے نہایت فیاض پروردگار! میں تجھ سے کچھ اور مانگتا ہوں، مجھے عطا فرما۔
یہ شعر بندے اور پروردگار کے درمیان محبت اور بے تکلف عقیدت کا بڑا ہی دلنشیں اظہار ہے۔ شاعر تسلیم کرتا ہے کہ رب کی نوازشیں اتنی بے پایاں ہیں کہ کروڑوں زبانیں بھی مل کر ان کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ اس کے باوجود، ایک لاڈلے بچے کی طرح، وہ مزید کچھ مانگنے چلا آتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا پروردگار حد سے زیادہ سخی اور فیاض ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
