“Just as a foolish hawk, beholding its reflection in a mirrored floor, swoops down in ravenous haste for prey, unmindful of the ruin awaiting its face.”
جس طرح کوئی نادان باز شیشے کے فرش پر اپنے ہی جسم کا عکس دیکھ کر، خوراک کی ہوس میں اپنے چہرے کے نقصان کو بھول کر بے صبری سے اس پر جھپٹ پڑتا ہے۔
یہ شعر انسانی التباس اور اندھی خواہشات کی ایک دردناک تمثیل پیش کرتا ہے۔ جس طرح ایک نادان باز شیشے کے فرش پر اپنے ہی عکس کو شکار سمجھ کر، بھوک کی شدت میں بے تحاشا لپکتا ہے اور اپنا ہی چہرہ زخمی کر بیٹھتا ہے، کچھ ایسا ہی حال ہمارا بھی ہے۔ ہم دنیا کی چمک دمک اور فریب کے پیچھے اس قدر اندھے ہو کر دوڑتے ہیں کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سراب کا انجام سراسر ہمارا اپنا ہی نقصان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
