“How far can I recount my wicked ways, O Ocean of Mercy, when You already know every motion of my heart? O Lord, relieve Tulsidas of this unbearable grief, and uphold the honour of Your sacred vow.”
اے رحمت کے سمندر! میں اپنی بد اعمالیوں کا کہاں تک ذکر کروں، آپ تو میرے دل کی حالت خوب جانتے ہیں۔ اے پربھو! تلسی داس کے اس ناقابلِ برداشت دکھ کو دور کیجیے اور اپنے عہد کی لاج رکھیے۔
اس کلام میں تلسی داس جی کمالِ عاجزی سے اپنا دل اپنے پروردگار کے سامنے کھول کر رکھ دیتے ہیں کہ وہ اپنی خطاؤں کا کہاں تک شمار کریں، جب کہ وہ بحرِ کرم تو دل کی ہر دھڑکن اور نیت سے بخوبی واقف ہے۔ یہاں التجا اپنی کسی نیکی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خدا کے اسی ازلی وعدۂ رحمت کے واسطے سے ہے جو اس نے بے سہاروں کو سنبھالنے کے لیے کیا ہے۔ یہ بندگی، اعتراف اور غیر متزلزل امید کا نہایت دل نشین اور پرتاثیر بیان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
