“Having found the beauteous wish-fulfilling jewel of the Holy Name, I shall not let it slip from heart or hand; Upon the pure and lovely touchstone of the Dark-hued Form, I shall assay the gold of my mind.”
میں نے پربھو کے نام کا خوبصورت چنتامنی پتھر پا لیا ہے، اب اسے اپنے دل اور ہاتھ سے گرنے نہیں دوں گا۔ بھگوان کے پاکیزہ اور دلکش سانولے روپ کی کسوٹی پر میں اپنے دل کے سونے کو پرکھوں گا۔
اس شعر میں شاعر اپنے رب کے مبارک نام کو ایک بیش قیمت گوہرِ نایاب قرار دیتے ہوئے عہد کرتا ہے کہ اب یہ تحفہ کبھی اس کے دل اور ہاتھوں سے نہیں چھوٹ پائے گا۔ شاعر نے اپنے دل کو سونے اور معبود کے دلکش روپ کو ایک کسوٹی مانا ہے، جس پر وہ اپنے باطن کے خلوص کو پرکھنا چاہتا ہے۔ یہ دراصل کامل سپردگی اور سچی عقیدت کا اظہار ہے، جہاں انسان اپنے ہر احساس کو محبوب کی پاکیزگی کے پیمانے پر تولیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
