परबस जानि हँस्यो इन इंद्रिन, निज बस ह्वै न हँसैहौं । मन-मधुकर पन करि तुलसी रघुपति-पद कमल बसैहौं ॥

“Finding me helpless, these senses mocked me; now sovereign of myself, I shall let them laugh no more. With a steadfast vow, Tulsi says, the honeybee of my mind shall dwell forever within Raghupati's lotus feet.”

— تلسی داس
معنی

مجھے بے بس اور اپنے تابع جان کر ان حواس نے میرا مذاق اڑایا، لیکن اب اپنے آپ پر قابو پا کر میں انہیں ہنسنے کا موقع نہیں دوں گا۔ تلسی داس کہتے ہیں کہ اب میں پکا عہد کر کے اپنے دل کے بھنورے کو شری رام کے قدموں کے کنول میں بساؤں گا۔

تشریح

تُلسی داس جی اس شعر میں باطنی بیداری اور خود شناسی کا بڑا دلکش اور اپنائیت بھرا منظر پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک میں اپنے نفس اور حواس کے بس میں تھا، وہ میری بے بسی پر ہنستے رہے، مگر اب میں نے اپنے دل کی باگ ڈور سنبھال لی ہے اور انہیں دوبارہ ہنسنے کا موقع نہیں دوں گا۔ انہوں نے اپنے من کو ایک بے چین بھنورے سے تشبیہ دی ہے جو دنیا کے فانی رنگوں کو چھوڑ کر اب ہمیشہ کے لیے محبوبِ حقیقی کے قدموں کے کنول میں سکون پانے کا پختہ ارادہ کر چکا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.