Sukhan AI
غزل

کوئی راستے کے کنارے کنارے

کوئی راستے کے کنارے کنارے
سریش دلال· Ghazal· 6 shers

یہ غزل کسی عزیز کی گہری آرزو اور انتظار کو بیان کرتی ہے۔ اس میں شاعر صبح و شام سڑک کنارے بیٹھ کر اپنے محبوب کا انتظار کرتا ہے، جہاں پرندے بھی ان کا نام پکارتے ہیں اور سورج بھی ان کے نام سے طلوع و غروب ہوتا ہے۔ شاعر کو آنے والے کی ایک مدھم سی امید ہے اور اسی آس میں وہ منتظر رہتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
કોઈ રસ્તાની ધારે ધારે બેસી સાંજ સવારે તારી રાહ જોઉં છું.
کسی راستے کے کنارے کنارے بیٹھ کر صبح و شام تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔
2
ઊડતાં ઊડતાં પંખીઓ પણ તારું નામ પુકારે તારી રાહ જોઉં છું.
اڑتے ہوئے پرندے بھی تمہارا نام پکارتے ہیں، میں تمہاری راہ دیکھ رہا ہوں۔
3
તારું નામ લઈને આભે સૂર્યોદય પણ થાતો સૂરજ તારું નામ લઈને સાંજે ડૂબી જાતો.
آپ کا نام لے کر آسمان میں سورج طلوع ہوتا ہے اور آپ کا نام لے کر ہی سورج شام کو غروب ہوتا ہے۔
4
કદીક આવશે તું : એવા અગમના અણસારે તારી રાહ જોઉં છું.
میں تمہاری راہ دیکھ رہا ہوں، اس اشارے پر کہ تم کبھی تو آؤ گے۔
5
વનની કેડી વાંકીચૂંકી : મારી કેડી સીધી. મેં તો તારા નામની મીઠી કમલકટોરી પીધી
جنگل کی راہ ٹیڑھی میڑھی ہے، لیکن میری راہ سیدھی ہے۔ میں نے تو تیرے نام کا میٹھا کنول کا پیالہ پی لیا ہے۔
6
રાતની નીરવ શાંતિ : એના રણઝણતા રણકારે. તારી રાહ જોઉં છું.
رات کی پرسکون خاموشی میں، اس کی جھنکارتی گونج کے درمیان، میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.