“Meanwhile Hari grew restless and stirred, while Yashoda sang in sweet refrain; the joy rare even for gods and sages, Nanda's consort did obtain.”
اسی دوران شری کرشن بے چین ہو کر جاگ اٹھے اور یشودا مدھر آواز میں گانے لگیں۔ سورداس کہتے ہیں کہ جو خوشی دیوتاؤں اور رشی منیوں کے لیے بھی نایاب ہے، وہ سکھ نند کی بیوی یشودا حاصل کر رہی ہیں۔
سُورداس جی اس شعر میں ممتا اور بندگی کا ایک نہایت دلنشین منظر پیش کرتے ہیں، جہاں ننھے کرشن بے چین ہو کر تڑپتے ہیں اور ماتا یشودھا انہیں میٹھے سروں میں لوری سنا کر بہلاتی ہیں۔ شعر کا اصل حسن اس احساس میں پوشیدہ ہے کہ جس خدائی قرب اور سرور کی خاطر بڑے بڑے زاہد اور دیوتا برسوں تپسیا کرتے ہیں، وہی نایاب سعادت ماں یشودھا کو کسی تکلف کے بغیر محض اپنے خالص اور بے غرض مادری پیار کے طفیل نصیب ہو رہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
