غزل
جہاں کائنات سے وصل ہو
جہاں کائنات سے وصل ہو
یہ نظم محبوب کے انتظار میں پائے جانے والے گہرے سرور کو بیان کرتی ہے، جہاں خوشی اور غم دونوں میں محبوب کا لمس محسوس ہوتا ہے۔ یہ ایک شدید آرزو اور مسلسل امید کا اظہار کرتی ہے، تسلیم کرتے ہوئے کہ محبوب کی غیر موجودگی میں بھی، اس کا سایہ ایک تسلی بخش موجودگی بن کر ساتھ ہوتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
বিশ্বসাথে যোগে যেথায় বিহারো সেখানে যোগ দাও হে তোমার এই মিলনের খেলায়।
আমার এই পথ চাওয়াতেই আনন্দ॥
جہاں تم دنیا کے ساتھ مل کر گھومتے ہو، وہیں اپنے اس ملاپ کے کھیل میں شامل ہو جاؤ۔ میری خوشی تو اس راہ پر انتظار کرنے میں ہی ہے۔
2
আনন্দে দুঃখে মেলামেশায়, তোমার স্পর্শ পাই হে,
সুখের দিনে তোমায় ভুলি, দুখের দিনে ডাকি তোমায়॥
خوشی اور غم کے امتزاج میں، میں تمہارا لمس محسوس کرتا ہوں۔ خوشی کے دنوں میں تمہیں بھول جاتا ہوں، اور غم کے دنوں میں تمہیں پکارتا ہوں۔
3
তোমার পানে চাহিয়া থাকি নয়নভরা আশে,
তুমি আসো নাই, তবু তোমার ছায়া পড়ে মোর পাশে॥
میں تمہاری طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا رہتا ہوں۔ تم نہیں آئے، پھر بھی تمہارا سایہ میرے پاس پڑتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
