“Your humble beggar's pride surpasses that of monarchs crowned; he bears no headache to tilt his cap in haughty vanity around.”
تیرے در کے فقیر کی عزتِ نفس اور وقار بادشاہوں سے بھی بڑھ کر ہے، اور اسے اپنی شان جتانے کے لیے ٹوپی ترچھی کرنے کا کوئی جھنجھٹ نہیں ہے۔
اس شعر میں شاعر فقر اور عشق کی خودداری کو دنیاوی بادشاہوں کے کروفر سے کہیں زیادہ بلند دکھاتا ہے۔ تاج پہننے والے حکمرانوں کو تو اپنی دستار کی سجاوٹ اور غرور سنبھالنے کا تکلف اور دردِ سر جھیلنا پڑتا ہے۔ مگر محبوب کے در کے فقیر کو اپنی شان ظاہر کرنے کے لیے کسی ظاہری نمائش یا بناوٹ کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کی بےنیازی ہی اس کی اصل سلطنت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
