شبنم و گل کو دیکھ کر وجد نہ آئے کس طرح خندہ بے سبب نہیں گریہ بے اثر نہیں

“Beholding the rose and the dew, how could ecstasy not take hold? The laughter is not without a cause, nor is the weeping without effect.”

— نظم طباطبائی
معنی

شبنم اور پھول کو دیکھ کر انسان پر وجد کی کیفیت کیوں طاری نہ ہو؟ پھول کا مسکرانا بے وجہ نہیں ہے اور شبنم کا رونا بے اثر نہیں ہے۔

تشریح

اردو شاعری کی دلکش روایت میں پھول کا کھلنا اس کی ہنسی ہے اور شبنم کے موتی اس کے بہتے ہوئے آنسو۔ شاعر کہتا ہے کہ گلشن میں درد اور نشاط کا یہ حسین ملاپ دیکھ کر دل پر وجد اور سرور کا طاری ہو جانا فطری ہے۔ یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی میں خوشی بے سبب نہیں ہوتی اور خلوص سے بہا ہوا کوئی بھی آنسو کبھی بے اثر اور رائیگاں نہیں جاتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.