“So what if you raised palaces, towers, and portals high? / Alas, ruined soul, you found no home in anyone's heart.”
اگر تم نے محلات، ایوان، چھتیں اور در و دیوار بنا بھی لیے تو کیا ہوا؟ افسوس ہے اے بے ٹھکانہ انسان کہ تم کسی کے دل میں اپنی جگہ نہ بنا سکے۔
شاعر یہاں دنیاوی شان و شوکت اور اونچے ایوانوں کی بے ثباتی کا ذکر بڑے درد بھرے انداز میں کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر تم نے عالیشان محلات، چھتیں اور در و دیوار تعمیر بھی کر لیے تو اس کی کیا حقیقت، جب تم کسی کے دل میں اپنے لیے ذرا سی جگہ بھی نہ بنا سکے۔ انسان کا اصل مسکن اینٹ گارے کے مکان نہیں بلکہ محبت ہوتی ہے، اور جو کسی کے دل میں نہیں سمایا، وہ قصر و کوشک کا مالک ہو کر بھی دراصل خانماں خراب اور بے آسرا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
