“Where is the denier of the Reckoning? Open your eyes and see: there is no dawn that does not break with tidings of Doomsday.”
قیامت کا انکار کرنے والا کہاں ہے؟ وہ ذرا آنکھیں کھول کر دیکھے کہ ایسی کوئی صبح نہیں جو قیامت کی خبر نہ دیتی ہو۔
شاعر روزِ جزا کا انکار کرنے والے کو محبت اور حیرت سے جھنجھوڑتے ہوئے کہتا ہے کہ ذرا غفلت کے پردے ہٹا کر اور آنکھیں کھول کر کائنات پر نظر ڈالو۔ ہر طلوع ہونے والی صبح دراصل رات کی موت جیسی نیند کے بعد ایک نیا جی اٹھنا ہے، جو حشر کے منظر کی گواہی دیتی ہے۔ یہاں سحر محض روشنی کا پھوٹنا نہیں، بلکہ وہ روزمرہ کی نشانی ہے جو انسان کو ایک حتمی بیداری کی یاد دلاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
