“An autumn-stricken leaf am I, disturb me not, O gentle breeze; I relish only lamentation, and hold no grievance with the rain.”
میں خزاں کا ستایا ہوا ایک پتہ ہوں، اے صبح کی ہوا مجھے مت چھیڑ؛ مجھے تو صرف آہ و زاری کا شوق ہے اور برسنے والے بادل سے مجھے کوئی گلہ نہیں۔
شاعر اپنے آپ کو خزاں کے مارے ہوئے ایک سوکھے پتے سے تشبیہ دے رہے ہیں جو صبح کی ٹھنڈی ہوا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اسے آ کر نہ چھیڑے۔ اب اُن کے دل میں بارش کے بادلوں سے کوئی گلہ نہیں رہا کہ اُنہوں نے برس کر اسے زندگی کیوں نہ بخشی۔ دراصل، شاعر نے اپنے درد اور تنہائی سے ایسا نباہ کر لیا ہے کہ اب اپنے دکھ پر رونے اور فریاد کرنے میں ہی اُنہیں ایک پُرسکون سرور ملتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
