“From eternity's dawn to the end of time, this tale will not conclude; The chronicle of heaven's cruelty is not so brief as to be subdued.”
کائنات کے آغاز سے لے کر قیامت تک بھی یہ قصہ ختم نہیں ہو گا۔ آسمان (قسمت) کے ستم کی کہانی اتنی مختصر نہیں ہے۔
اس شعر میں شاعر گردشِ دوراں اور تقدیر یعنی 'جورِ فلک' کے دیے گئے دکھوں کا احاطہ کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان پر بیتے ہوئے ستم اتنے طویل ہیں کہ کائنات کی پہلی صبح سے لے کر ابد تک بھی دہرائے جائیں تو یہ قصہ ختم نہیں ہو سکتا۔ یہ شعر انسان کی ازلی بے بسی اور دکھ درد کے لامتناہی سفر کی بڑی پُراثر تصویر کشی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
