“Once on the heart, of any sigh there was no mark or name; at last it came to pass: the sigh remains, the heart is gone.”
پہلے دل پر آہ کا کوئی نام و نشان نہ تھا، لیکن انجام کار یہ ہوا کہ اب آہ تو باقی ہے مگر دل ہی ختم ہو چکا ہے۔
یہ شعر غمِ عشق کی اس انتہا کو بیان کرتا ہے جہاں رنج انسان کو اندر سے بالکل فنا کر دیتا ہے۔ ابتدا میں دل پر دکھ یا کسی آہ کا سایہ تک نہ تھا، مگر رفتہ رفتہ عشق کی تپش نے جگر کو اس قدر خاکستر کر دیا کہ اب فقط آہیں اور فریاد باقی رہ گئی ہیں، لیکن وہ دل ہی مٹ چکا ہے جس سے یہ آہیں جنم لیتی تھیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
