“To raise a lament like mine is impossible for the rival; he lacks the heart, the courage, the nerve, and the grit.”
رقیب کے لیے میری طرح آہ و زاری کرنا ناممکن ہے۔ اس کے پاس نہ تو دل ہے، نہ حوصلہ، نہ ہمت اور نہ ہی جگر۔
شاعر یہاں سچے عاشق اور سطحی رقیب کے درمیان کا گہرا فرق واضح کر رہا ہے۔ عشق میں نالہ و فریاد کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے درد کی آگ میں جلنے اور مٹ جانے کا غیر معمولی دم خم درکار ہوتا ہے۔ رقیب لاکھ دعوے کرے مگر وہ اس سوز کے ساتھ آہیں نہیں بھر سکتا، کیونکہ اس جان لیوا غم کو جھیلنے کے لیے جو دل، حوصلہ، زہرہ اور جگر درکار ہے، وہ اس کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
