“O cunning player, aged sky, marvel at your ruthless theft: Neither the sword nor the waist of Khusraw and Kaiqubad is left.”
اے مکار بوڑھے آسمان! تیری لوٹ مار کا کیا کہنا کہ خسرو اور کیقباد جیسے عظیم حکمرانوں کی نہ تو تلوار باقی بچی اور نہ ہی ان کی کمر کا کوئی نام و نشان رہا۔
شاعر یہاں گردشِ دوراں اور آسمان کو ایک چالاک، کہنہ مشق کھلاڑی کی صورت میں دیکھتا ہے جس کے ہاتھ کی صفائی اور لوٹ مار کمال کی ہے۔ خسرو اور کیقباد جیسے عظیم اور رعب دار بادشاہوں کا انجام دیکھیے کہ آج نہ ان کی ہیبت ناک تلواریں باقی ہیں اور نہ وہ کمریں جن پر وہ کبھی لٹکتی تھیں۔ یہ شعر انسانی جاہ و جلال کی بے ثباتی کا ایک ایسا نوحہ ہے جو دل کو چھو کر یاد دلاتا ہے کہ وقت کے آگے کسی کا دبدبہ نہیں ٹھہرتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
