زنجیر تار داماں ہے طوق اک گریباں زور جنوں نہ کم ہو حداد کیا کرے گا

“The hem's loose thread turns into chains, the collar into an iron yoke; if the fury of madness does not wane, what can the ironsmith do?”

— نظم طباطبائی
معنی

دامن کا ایک تار ہی زنجیر اور گریبان طوق بن چکا ہے؛ اگر جنون کی شدت ہی کم نہ ہو تو لوہار قید کرنے کے لیے کیا کر سکے گا۔

تشریح

اس شعر میں عشق کے اس جنون کا دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے جہاں عاشق کے تار تار دامن کے دھاگے ہی اس کے پاؤں کی زنجیر اور پھٹا ہوا گریبان گلے کا طوق بن چکا ہے۔ جب اندر کا جنون اور وحشت اتنی سرکش ہو جائے تو پھر لوہار (حدّاد) لوہے کی بیڑیاں ڈھال کر بھی کیا کر سکتا ہے؟ شاعر دراصل یہ بتا رہے ہیں کہ روح کی دیوانگی اور سچے جذبے کو قید کرنے میں دنیا کی تمام ظاہری پابندیاں اور زنجیریں بے بس ہو جاتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.