ظالم یہ سوچ کر اب دیتا ہے بوسۂ لب جب ہونٹ سی دیئے پھر فریاد کیا کرے گا

“Thinking this, the cruel one now grants a kiss upon my lips: once these lips are sealed shut, how will he ever raise a cry?”

— نظم طباطبائی
معنی

ظالم محبوب اب یہ سوچ کر ہونٹوں کا بوسہ لیتا ہے کہ جب اس طرح ہونٹ ہی سی دیے جائیں گے تو پھر میں فریاد کیسے کروں گا۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کے ستم ظریفی اور عاشق کے شکوے کا بڑا دلکش رنگ ہے۔ بظاہر تو محبوب کا بوسہ دینا عنایت اور محبت کی علامت لگتا ہے، مگر عاشق اس کی اصل چال سمجھ جاتا ہے۔ ظالم نے ہونٹوں پر بوسہ ثبت کر کے دراصل انہیں ہمیشہ کے لیے سی دیا ہے، تاکہ عاشق کے لبوں سے اپنے غم اور ظلم کی فریاد ہی چھین لے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.