وہ اپنے رخ کی صباحت کو آپ دیکھتے ہیں جھکے ہوئے گل نرگس ہیں یاسمن کی طرف

“They gaze themselves upon the radiance of their own face, as if narcissus blooms bow down toward the jasmine.”

— نظم طباطبائی
معنی

وہ خود اپنے چہرے کی چمک اور خوبصورتی کو دیکھ رہے ہیں، جیسے نرگس کے پھول چمیلی کی طرف جھکے ہوئے ہوں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کی خود پسندی اور حسن کی نزاکت کا بڑا دلکش منظر کھینچا ہے۔ اردو شاعری میں گلِ نرگس محبوب کی آنکھ کا اور یاسمن اس کے روشن، پاکیزہ رخسار کا استعارہ ہے۔ جب محبوب جھک کر اپنے ہی نورانی چہرے کو دیکھتا ہے، تو ایسا دل فریب سماں بندھ جاتا ہے جیسے نرگس کے دیدہ ور پھول جھک کر یاسمن کی نزاکت کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہوں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.