“Rising up, Judgment Day itself heralded the news of her arrival; May God have mercy now, for she turns toward our gathering.”
قیامت نے اٹھ کر اس کے آنے کی اطلاع دی ہے، اب خدا ہی خیر کرے کیونکہ اس کا رخ محفل کی جانب ہے۔
اس شعر میں محبوب کے حُسن کی تابناکی اور اس کی آمد کا بڑا خوبصورت اور ڈرامائی نقشہ کھینچا گیا ہے۔ قیامت، جو خود سب سے بڑا ہنگامہ ہے، محبوب کے جلوے کے آگے اٹھ کر اس کے آنے کی منادی کر رہی ہے۔ اب جبکہ اس کا رخ محفل کی طرف ہو چکا ہے تو شاعر پیار بھرے خوف سے دعا گو ہے کہ خدا ہی خیر کرے، کیونکہ اس ہوش ربا حسن کے روبرو کسی کا بھی دل سلامت بچنا ممکن نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
