“Who will bear witness to my murder on the Day of Reckoning, when already the entire world sides with the swordsman?”
قیامت کے دن میرے قتل کی گواہی کون دے گا، جبکہ ابھی سے سارا زمانہ تلوار چلانے والے یعنی قاتل کی طرف داری کر رہا ہے۔
یہ شعر مظلوم کی اس تنہائی اور دل سوز بے بسی کا نوحہ ہے جہاں ہر کوئی سچائی کے بجائے طاقت کا پرستار نظر آتا ہے۔ شاعر بڑی حسرت سے سوچتا ہے کہ محشر کے روز اس کے خون کی گواہی کون دے گا، جب سارا زمانہ ابھی سے ہی تلوار چلانے والے قاتل کی طرف داری میں کھڑا ہے۔ اس میں روایتی عشق کے ستم کے ساتھ ساتھ سماج کے اس سدا بہار رویے کا درد بھی جھلکتا ہے جو ہمیشہ کمزور کو چھوڑ کر طاقتور کے گن گاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
