“Why should my speech not be sweet in the twilight of old age? In childhood, after all, I suckled upon the tongue of Lucknow.”
بڑھاپے کے دور میں میری گفتگو کیوں نہ میٹھی ہو، جبکہ بچپن میں مَیں نے لکھنؤ کی زبان چوسی ہے۔
شاعر یہاں لکھنؤ کی شیریں زبانی اور شائستہ تہذیب پر فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عمر کے آخری حصے میں بھی میری گفتگو اور شاعری میں یہ مٹھاس کیوں نہ ہو! انہوں نے بچپن ہی میں لکھنؤ کی فصیح و بلیغ زبان کو ماں کے دودھ کی طرح اپنے رگ و پے میں جذب کر لیا تھا۔ یہ شعر دراصل اپنی مٹی، زبان اور تہذیبی ورثے سے اس گہرے تعلق کی علامت ہے جو بڑھاپے میں بھی انسان کے کلام کو شگفتہ اور پُرتاثیر رکھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
