“Strange it is that Khizr should still crave the Water of Life, and stranger still that in the desert's skirts you dwell in seclusion.”
یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ خضر کو اب بھی آبِ حیات کی طلب ہے، اور پھر آپ صحرا کے دامن میں گوشہ نشین بنے بیٹھے ہیں۔
حضرت خضرؑ تو آبِ حیات پی کر لافانی ہو چکے ہیں، اس لیے شاعر بڑے دلکش انداز میں حیرت جتا رہا ہے کہ انہیں اب بھلا کس امرت کی طلب ہے؟ اور ستم ظریفی دیکھیے کہ زندگی کا راز پانے والا یہ ہادی اب دنیا سے کنارہ کش ہو کر بے آب و گیاہ صحرا کی تنہائی میں جا بسا ہے۔ یہ شعر دراصل انسان کی کبھی نہ بجھنے والی پیاس اور سب کچھ حاصل کر کے بھی ادھورے رہ جانے کی عکاسی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
