“Why should my prayer be beholden to an angel's wing? My ecstatic sighs can traverse the skies on their own.”
میری دعا عرش تک پہنچنے کے لیے کسی فرشتے کے پروں کی احسان مند کیوں ہو؟ میری مستانہ فریاد اور آہیں تو خود ہی آسمانوں کو طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
شاعر کو اپنے جذبۂ عشق اور دل کی تڑپ پر اس قدر ناز ہے کہ وہ کہتے ہیں، میری دعا کو عرش تک پہنچنے کے لیے کسی فرشتے کے پروں کا محتاج ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ ان کی دیوانہ وار آہیں اور سچے درد کی پکار اتنی پرواز رکھتی ہے کہ وہ خود سارے آسمانوں کو ناپنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ شعر انسان کے خالص اور بے خود احساس کی بلندی کو بیان کرتا ہے، جس کا خدا سے سیدھا اور بے لاگ رشتہ ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
