“The endless span of mortal desire lies ahead, yet time granted is so brief; whom shall one ask for the way, when the very footprints stand stunned in disbelief?”
سامنے لمبی امیدوں کی منزل ہے اور وقت بہت کم ہے، ایسے میں راستہ کس سے پوچھا جائے جب خود قدموں کے نشانات حیرت میں گم ہیں۔
یہ شعر انسانی زندگی کے اس گہرے المیے کو سمیٹتا ہے جہاں خواہشیں اور آرزوئیں تو لامتناہی ہیں، مگر سانسوں کی مہلت بہت کم ہے۔ شاعر نے کتنی خوبصورتی سے نقشِ پا کو حیران دکھایا ہے، گویا راستے اور پچھلے مسافروں کے نشانات بھی اس کٹھن سفر کی وسعت دیکھ کر خود ششدر کھڑے ہیں۔ جب آرزوئیں لامحدود ہوں، عمر مختصر ہو اور خود راہبر نشانات بھی دم بخود ہوں، تو انسان کس سے اپنی منزل کا پتا پوچھے؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
