“Long before the arrival of autumn, this truth was known to me: that no trust can ever be placed in the garden's fragrance and hue.”
مجھے خزاں کے آنے سے پہلے ہی یہ معلوم تھا کہ باغ کے رنگ اور خوشبو کا کوئی بھروسا نہیں ہے۔
اس شعر میں شاعر نے چمن کی رعنائی اور خزاں کے استعارے سے دنیا اور اس کی خوشیوں کی ناپائیداری کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ بہار کے جوبن میں بھی وہ رنگ و بو کے فریب میں نہیں آئے، کیونکہ دل پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ عارضی خوبصورتی جلد ڈھل جائے گی۔ یہ ایک ایسی باوقار اور گہری اداسی ہے جہاں زوال پر حیرت نہیں ہوتی، بلکہ فنا کا ادراک بہار کے عروج میں ہی حاصل ہو چکا ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
