غزل

کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں

کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں
نظم طباطبائی· Ghazal· 6 shers· radif: नहीं

یہ غزل گہری مایوسی، ناامیدی اور حزن و ملال کی عکاس ہے۔ شاعر کو کسی سے بھی اپنے کام بننے کی کوئی امید باقی نہیں رہی یہاں تک کہ موت پر بھی اعتبار نہیں، اور المیہ یہ ہے کہ انتظار کا ثمر اور محبوب کا جواب اس وقت قبر پر پہنچتا ہے جب جان ہی نکل چکی ہوتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
किसी से बस कि उमीद-ए-कुशूद-ए-कार नहीं मुझे अजल के भी आने का ए'तिबार नहीं
کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں مجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیں
2
जवाब नामे का क़ासिद मज़ार पर लाया कि जानता था उसे ताब-ए-इंतिज़ार नहीं
جواب نامہ کا قاصد مزار پر لایا کہ جانتا تھا اسے تاب انتظار نہیں
3
ये कह के उठ गई बालीं से मेरी शम-ए-सहर तमाम हो गई शब और तुझे क़रार नहीं
یہ کہہ کے اٹھ گئی بالیں سے میری شمع سحر تمام ہو گئی شب اور تجھے قرار نہیں
4
जो तू हो पास तो हूर-ओ-क़ुसूर सब कुछ हो जो तू नहीं तो नहीं बल्कि ज़ीनहार नहीं
جو تو ہو پاس تو حور و قصور سب کچھ ہو جو تو نہیں تو نہیں بلکہ زینہار نہیں
5
ख़िज़ाँ के आने से पहले ही था मुझे मा'लूम कि रंग-ओ-बू-ए-चमन का कुछ ए'तिबार नहीं
خزاں کے آنے سے پہلے ہی تھا مجھے معلوم کہ رنگ و بوئے چمن کا کچھ اعتبار نہیں
6
ग़ज़ल कही है कि मोती पिरोए हैं ऐ 'नज़्म' वो कौन शे'र है जो दुर्र-ए-शाहवार नहीं
غزل کہی ہے کہ موتی پروئے ہیں اے نظمؔ وہ کون شعر ہے جو در شاہوار نہیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.