“Where have you been all this past month, O cupbearer, tell me true? Come here, come close, let us embrace for Eid properly anew.”
اے ساقی، تو اس پورے مہینے کہاں تھا؟ ذرا ادھر آ تاکہ ہم عید پر اچھی طرح گلے مل سکیں۔
شاعر یہاں اپنے محبوب یعنی ساقی سے بڑی شوخی اور لاڈ کے ساتھ گلہ کر رہا ہے کہ وہ پورے ایک مہینے تک کہاں غائب رہا—یہ دراصل ماہِ رمضان کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے جب میخانے ویران ہو جاتے ہیں۔ اب چونکہ عید کی خوشی اور وصل کا وقت آ گیا ہے، تو وہ عید ملنے کے روایتی بہانے سے ساقی کو خوب جی بھر کر آغوش میں لینا چاہتا ہے۔ اس شعر میں دوری کے بعد ملنے کی تڑپ اور عید کی محبت بھری مٹھاس بڑی خوبصورتی سے پروئی گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
