توبہ تو کی ہے نظمؔ بنا ہوگی کس طرح کیوں کر جیو گے مشرب رندانہ چھوڑ کر

“You took a vow of abstinence, Nazm, but how will you get by? / Having renounced the drinker's way, how will you live at all?”

— نظم طباطبائی
معنی

اے نظمؔ! تم نے توبہ تو کر لی ہے مگر شراب کے بغیر گزارا کیسے ہوگا؟ رندوں کا طور طریقہ چھوڑ کر تم آخر کیسے زندہ رہو گے؟

تشریح

اس شعر میں شاعر خود اپنے آپ سے ایک محبت بھرا اور شوخ سوال کر رہے ہیں کہ نیکی کے جوش میں توبہ تو کر لی، مگر اب زندگی کس طرح بسر ہوگی؟ یہاں 'مشربِ رندانہ' محض شراب پینا نہیں، بلکہ منافقت سے پاک، قلندرانہ اور کھل کر جینے کا انداز ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اگر دل سے وہی بے فکری، وارفتگی اور عشقیہ مستی ہی چھن جائے تو ایسی بے روح اور سخت پرہیزگاری میں جینا ناممکن ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev15 / 15