کہا کہ ہم نہیں آئینگے یان تو اُسنے نظیرؔ — نظیر اکبرآبادی

کہا کہ ہم نہیں آئینگے یان تو اُسنے نظیرؔ کہا کہ سوچو تو کیا آپ سے تم آتے ہو

“"We shall not come to this place," so he said, Nazeer— "But think," said she, "will you, of your own will, appear?"”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

نظیرؔ نے کہا کہ ہم یہاں نہیں آئیں گے، تو اُس نے کہا کہ ذرا سوچو، کیا تم اپنی مرضی سے آتے ہو۔

تشریح

اس شعر میں نظیرؔ دو محبت کرنے والوں کے درمیان ایک پیاری سی نوک جھونک دکھاتے ہیں۔ عاشق روٹھ کر کہتا ہے کہ وہ اب یہاں کبھی نہیں آئے گا، تو محبوب شرارت سے جواب دیتا ہے — ذرا سوچو تو، کیا تم اپنی مرضی سے آتے ہو؟ یعنی تمہیں تو میری کشش کھینچ لاتی ہے، تمہارا آنا تمہارے بس میں کہاں۔ شاعر عشق کی اس بے بسی کو بڑی شوخی اور ہنسی مذاق کے انداز میں بیان کرتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.