“Why, seeing it, in awe, do I not offer Thee my praise?Why, hearing 'dho dho' sweet, not drift to sleep on watery ways?”
اسے دیکھ کر حیرت زدہ ہو کر میں تیری تعریف کیوں نہ کروں؟ اور 'دھو دھو' کی میٹھی آواز سن کر میں لہروں پر کیوں نہ سو جاؤں؟
یہ خوبصورت شعر اُس گہرے احساس کو بیان کرتا ہے جب ہم کسی شاندار چیز، شاید قدرت کی عظمت یا کسی روحانی نظارے سے مکمل طور پر متاثر ہو جاتے ہیں۔ پہلی سطر میں شاعر پوچھتا ہے کہ ایسی حیرت انگیز چیز کو دیکھ کر کیوں نہ ہم تعریف اور عقیدت پیش کریں، جیسے یہ ایک فطری بات ہے! پھر، دوسری سطر پانی کی میٹھی 'دھو دھو' آواز کا نقشہ کھینچتی ہے، جو اتنی پرسکون ہے کہ ہمیں سکون سے لہروں پر جھولتے ہوئے سونے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہ کمال کا انداز ہے یہ بتانے کا کہ کیسے حیرت انگیز خوبصورتی اور پُر سکون آوازیں گہرے روحانی اور جذباتی ردِ عمل کو جنم دے سکتی ہیں، گویا ہمیں ان کے سکون کے آگے سر جھکانے پر مجبور کر رہی ہوں۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
