“Gathering in its tangled roots, the banyan departed, heading for the mountain.Those roots, so long and far-flung, stretched a small way from its parent trunk.”
برگد کا درخت اپنی لمبی اور پھیلی ہوئی جٹاؤں (جو اس کے مرکزی تنے سے تھوڑے فاصلے پر تھیں) کو سمیٹ کر پہاڑ کی طرف چلا گیا۔
یہ کیسی خوبصورت تخیل ہے! یہاں شاعر برگد کے درخت کو ایک رشی یا سنیاسی کی طرح پیش کرتے ہیں، جو اپنی پھیلی ہوئی جڑوں کو – جو اکثر الجھی ہوئی زلفوں جیسی لگتی ہیں – سمیٹ کر پہاڑوں کی خلوت کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔ یہ ترکِ دنیا اور روحانی سفر کا ایک طاقتور استعارہ ہے، جہاں جڑیں دنیا سے جڑے گہرے تعلقات کی علامت ہیں، جنہیں چھوڑتے ہوئے بھی ان کی اصل سے لگاؤ برقرار رہتا ہے۔ یہ ایک دانشمند روح کی امن کی تلاش معلوم ہوتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
