“I am content, but where is Gopi?The flute's melody I learned in winter's chill.”
میں خوش ہوں، مگر گوپی کہاں ہے؟ یہ بانسری کی دھن ہے جو میں نے ہیمنت کی رت میں سیکھی تھی۔
یہ شعر بظاہر اطمینان کے باوجود جدائی کے گہرے احساس کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ کہنے والا، شاید خود کرشن، اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہے، لیکن فوراً ہی گوپی کی غیر موجودگی پر سوال اٹھاتا ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اس کے بغیر اس کی خوشی نامکمل ہے۔ 'ہیمنت میں میں نے جو بانسری کی دھن سیکھی' یہ سطر لگن اور کوشش کی نشاندہی کرتی ہے؛ گویا ساری تیاری اور مہارت بیکار ہے جب محبوب سننے والا ہی موجود نہ ہو، جو محبت اور جدائی کے میٹھے کڑوے احساس کو دلکش انداز میں پیش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
