گر غیر کی گہرسی نہ دل آرام نکلتا — مومن خاں مومن
“Had the heart's solace not emerged from the rival's embrace, Then, O defeated heart, in a mere breath you would have slipped away.”
معنی
اگر رقیب کی آغوش سے دل کا سکون نہ نکلتا، تو اے ناکام دل، تو ایک ہی دم میں نکل جاتا۔
تشریح
اس شعر میں دل کے ٹوٹنے کا وہ نازک لمحہ ہے جب محبوب کسی اور کی گود میں سکون پاتا دکھائی دے۔ شاعر اپنے ناکام دل سے کہتا ہے کہ اگر رقیب کی آغوش سے دل آرام نکلتا نہ دیکھتا، تو تُو ایک ہی دم میں نکل جاتا — یعنی یہی جلن اور حسد تجھے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ گہری بات یہ ہے کہ کبھی کبھی رنج ہی جینے کا سہارا بن جاتا ہے، اور ٹوٹا دل اپنی ہی تکلیف سے جُڑا رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
