قیامت کر کے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقت — میر تقی میر
قیامت کر کے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقت
وہ اس کوچے میں اک آشوب سا شاید ہوا ہوگا
“The creation that can interpret the Day of Judgment, Perhaps in that alleyway, a ditch must have formed.”
— میر تقی میر
معنی
وہ شاعر جو قیامت کے دن تعبیر کر سکتی ہے، شاید اس گلی میں ایک نالہ بن گیا ہوگا۔
تشریح
یہ شعر کائنات کے بڑے منظر اور انسانی زندگی کی معمولی حقیقت کے درمیان ایک گہرا تضاد پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ قیامت کی عظمت کے باوجود... اس کا اثر بھی ایک گلی کے معمولی شور جیسا ہوگا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
