کہیں ہیں میرؔ کو مارا گیا شب اس کے کوچے میں — میر تقی میر
کہیں ہیں میرؔ کو مارا گیا شب اس کے کوچے میں
کہیں وحشت میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہوگا
“Somewhere, 'Mir' was killed in the streets of that city, Or perhaps, in a fit of madness, he simply rose up.”
— میر تقی میر
معنی
کہیں ہیں 'میر' کو مارا گیا شب اس کے کوچے میں، کہیں وہشط میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہوگا۔
تشریح
یہ شعر وجود کی بے ثباتی کا اظہار ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ میری ذات کا کوئی ٹھکانہ نہیں، میں یا تو شہر کی گلیوں میں مٹ گیا، یا وہشات کی خاموشی میں بس بیٹھے بیٹھے غائب ہو گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
← Prev12 / 12
