कब कब तुम ने सच नहीं मानीं झूटी बातें ग़ैरों की
तुम हम को यूँ ही जलाए गए वे तुम को वो हैं लगाए गए
“When, when did you not accept the false words of strangers,”
— میر تقی میر
معنی
جب جب تم نے سچ نہیں مانی جھوٹی باتیں غیروں کی، تم ہم کو یوں ہی جلائے گئے، وہ تم کو وہ ہیں لگائے گئے۔
تشریح
یہ شعر وہ گہرا درد ہے جب آپ کی سچائی کو قبول نہیں کیا جاتا۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ جو دھوکہ ہوا، وہ غیری کی باتوں کی وجہ سے ہوا، اور آپ کی قربانی صرف ان کی نظر میں تھی۔
