یہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں میرؔ — میر تقی میر
یہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں میرؔ
دل خس و خار سے ناچار لگایا ہم نے
“This cruelty was fresh, and in the month of Paiz, 'Meer', We inflicted wounds upon the heart with thorns and roses.”
— میر تقی میر
معنی
یہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں 'میر'، ہم نے دل کو کانٹوں اور گلابوں سے زخمی کیا۔
تشریح
یہ شعر عشق کے درد کے چکر کو بیان کرتا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ یہ ظلم بس بہار میں تازہ ہو کر سامنے آیا ہے۔ 'خس و خَر' محبت کی دوہری فطرت ہے—اس کی خوبصورتی اور اس کا کٹھور درد۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
← Prev10 / 10
