رہتے ہیں داغ اکثر نان و نمک کی خاطر — میر تقی میر

رہتے ہیں داغ اکثر نان و نمک کی خاطر جینے کا اس سمیں میں اب کیا مزہ رہا ہے

“The stains often remain for the sake of bread and salt; what pleasure is left in living in those times?”

— میر تقی میر

معنی

دغے اکثر نان و نمک کی خاطر رہتے ہیں؛ اس زمانے میں جینے کا اب کیا مزہ رہا ہے۔

تشریح

یہ شعر زندگی کے ستم کو بیان کرتا ہے۔ शायर کہتے ہیں کہ جو زخم اور داغ ہم سمیٹے ہوئے ہیں، وہ اکثر محض روزی کمانے کی خاطر ہوتے ہیں۔ اس مسلسل جدوجہد کے بعد، زندگی کے معمول میں اب کوئی مزہ باقی نہیں رہا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.