अब चाहता नहीं है बोसा जो तेरे लब से
जीने से 'मीर' शायद कुछ दिल उठा रहा है
“Bosa no longer desires what is from your lips; 'Mir' perhaps is lifting some heart from the act of living.”
— میر تقی میر
معنی
اب بوسہ نہیں چاہتا جو تیرے لب سے، 'میر' شاید زندگی گزارنے سے کوئی دل اٹھا رہا ہے۔
تشریح
یہ شعر اس کیفیت کو بیان کرتا ہے کہ اب زندگی کا سہارا بھی کم ہو گیا ہے۔ محبوب کے ہونٹوں کا بوسہ، اس اذیت کے سامنے بے معنی ہو گیا ہے، کیونکہ بس جی لینے کا عمل ہی دل کو زخمی کر رہا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev11 / 11
