آفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میں — میر تقی میر
آفت رسیدہ ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میں
جوں نخل خشک ہم کو نے سایہ نے ثمر ہے
“What use is it for us to draw a curtain in that garden, having endured calamity, where the branches of your grace offer neither new shade nor new joy?”
— میر تقی میر
معنی
آفت-رسیدا ہم کیا سر کھینچیں اس چمن میں، جن نخلےِ خوشک ہمیں نہ نیا سایہ نہ نیا سمر ہے۔
تشریح
یہ شعر ہمیں امید کی غلط جگہ پر جڑنے سے روکتا ہے۔ میرؔ کہتے ہیں کہ اگر چمن میں آفت رسی ہوئی ہے، تو سر کیوں اٹھائیں؟ کیونکہ وہ تو خشک نخلوں کا باغ ہے، جو ہمیں نہ نیا سایہ دے سکتا ہے اور نہ ہی نیا بہار۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
