غزل

ख़ूब-रू सब की जान होते हैं

ख़ूब-रू सब की जान होते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل ہر خوبصورت چیز اور ہر پہلو کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔ اس میں یہ خیال ہے کہ ہر خوبصورت شخص یا چیز کی اپنی خاص اہمیت ہوتی ہے، اور دنیا کے کسی بھی حصے کو خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
ख़ूब-रू सब की जान होते हैं आरज़ू-ए-जहान होते हैं
خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں آرزوئے جہان ہوتے ہیں
خوبصورت لوگ سب کی جان ہوتے ہیں، وہ دنیا کی آرزو ہوتے ہیں۔
2
गोश-ए-दीवार तक तू जा नाले उस में गुल को भी कान होते हैं
گوشۂ دیوار تک تو جا نالے اس میں گل کو بھی کان ہوتے ہیں
نالے کے گوشے تک جانا ہے، کیونکہ وہاں کے پھول کو بھی کان ہوتے ہیں۔
3
कभू आते हैं आप में तुझ बिन घर में हम मेहमान होते हैं
کبھو آتے ہیں آپ میں تجھ بن گھر میں ہم میہمان ہوتے ہیں
جب آپ یہاں نہیں ہوتے ہیں، تو میں اپنے ہی گھر میں ایک مہمان جیسا ہوتا ہوں۔
4
दश्त के फूटे मक़बरों पे न जा रौज़े सब गुलसिताँ होते हैं
دشت کے پھوٹے مقبروں پہ نہ جا روضے سب گلستاں ہوتے ہیں
دشت کے پھٹے مقبروں پہ نہ جا، رُزے سب گلستاں ہوتے ہیں
5
हर्फ़-ए-तल्ख़ उन के क्या कहूँ मैं ग़रज़ ख़ूब-रू बद-ज़बान होते हैं
حرف تلخ ان کے کیا کہوں میں غرض خوبرو بد زبان ہوتے ہیں
ان کے تلخ الفاظ کے بارے میں میں کیا کہوں، اے غرض؟ خوبصورت لوگ ہی بدزبان ہوتے ہیں۔
6
ग़म्ज़ा-ए-चश्म ख़ुश-क़दान-ए-ज़मीं फ़ित्ना-ए-आसमान होते हैं
غمزۂ چشم خوش قدان زمیں فتنۂ آسمان ہوتے ہیں
گمزے چشم خوش‌قَدانِ زمیں فتنۂ آسمان ہوتے ہیں
7
क्या रहा है मुशा'एरे में अब लोग कुछ जम' आन होते हैं
کیا رہا ہے مشاعرے میں اب لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں
مشاعرے میں اب کیا ہو رہا ہے؟ لوگ کافی پرجوش ہو رہے ہیں۔
8
'मीर'-ओ-'मिर्ज़ा-रफ़ी' व 'ख़्वाजा-मीर' कितने इक ये जवान होते हैं
میرؔ و مرزا رفیعؔ و خواجہ میرؔ کتنے اک یہ جوان ہوتے ہیں
شاعرزادہ کہہ رہے ہیں کہ ایسے کتنے نوجوان ہوتے ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.