غزل
क्या कहूँ तुम से मैं कि क्या है इश्क़
क्या कहूँ तुम से मैं कि क्या है इश्क़
یہ غزل عشق کی گہری اور پراسرار نوعیت پر غور کرتی ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ عشق کا بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ بیان کرتا ہے کہ عشق خود ایک بیماری یا آفت ہے جو ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اور ہر چیز کو آپس میں جوڑتی ہے۔ آخر میں، شاعر نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ عشق میں نہ عاشق اور نہ معشوق، دونوں ہی خود کو اس میں مبتلا پاتے ہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क्या कहूँ तुम से मैं कि क्या है इश्क़
जान का रोग है बला है इश्क़
میں تم سے کیا کہوں گا کہ کیا ہے عشق، جان کا روگ ہے بلا ہے عشق۔
2
इश्क़ ही इश्क़ है जहाँ देखो
सारे आलम में भर रहा है इश्क़
اس کا مطلب ہے کہ عشق ہی عشق ہے؛ جہاں کہیں بھی دیکھا جائے، پورے عالم میں عشق پھیل رہا ہے۔
3
इश्क़ है तर्ज़ ओ तौर इश्क़ के तईं
कहीं बंदा कहीं ख़ुदा है इश्क़
محبت خود ایک انداز اور طریقہ ہے، جو محبت کے ہی رنگ کا ہے؛ کبھی عاشق ہے، کبھی محبوب ہی محبت ہے۔
4
इश्क़ मा'शूक़ इश्क़ आशिक़ है
या'नी अपना ही मुब्तला है इश्क़
عشق ما'شوق عشق عاشق ہے، یعنی اپنا ہی مُبتلا ہے عشق۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ محبوب کا عشق اور عاشق کا عشق ایک ہی ہے، یعنی عشق خود ہی سب سے زیادہ متاثر کرنے والا ہے۔
5
गर परस्तिश ख़ुदा की साबित की
किसू सूरत में हो भला है इश्क़
اگر پرستیش خدا کی ثابت کی، تو بھلا ہے عشق کس صورت میں۔
6
दिलकश ऐसा कहाँ है दुश्मन-ए-जाँ
मुद्दई है प मुद्दआ है इश्क़
دلکش ایسا کہاں ہے، اے دشمنِ جان۔ چاہے مدعی ہو یا مدعا، سب عشق ہی ہے۔
7
है हमारे भी तौर का आशिक़
जिस किसी को कहीं हुआ है इश्क़
ہم بھی اس طرح کے عاشق ہیں، جسے کسی کو کہیں بھی عشق ہوا ہو۔
8
कोई ख़्वाहाँ नहीं मोहब्बत का
तू कहे जिंस-ए-ना-रवा है इश्क़
محبت میں کوئی خواہ نہیں، بس اگر تو کہے کہ عشق کا جنسِ نَروا ہے۔
9
'मीर'-जी ज़र्द होते जाते हो
क्या कहीं तुम ने भी किया है इश्क़
میر جی، تم زرد ہوتے جاتے ہو؛ کیا تم نے بھی کبھی عشق کیا ہے؟
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
