غزل

क्या कहूँ तुम से मैं कि क्या है इश्क़

क्या कहूँ तुम से मैं कि क्या है इश्क़
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل عشق کی گہری اور پراسرار نوعیت پر غور کرتی ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ عشق کا بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ بیان کرتا ہے کہ عشق خود ایک بیماری یا آفت ہے جو ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اور ہر چیز کو آپس میں جوڑتی ہے۔ آخر میں، شاعر نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ عشق میں نہ عاشق اور نہ معشوق، دونوں ہی خود کو اس میں مبتلا پاتے ہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
क्या कहूँ तुम से मैं कि क्या है इश्क़ जान का रोग है बला है इश्क़
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جان کا روگ ہے بلا ہے عشق
میں تم سے کیا کہوں گا کہ کیا ہے عشق، جان کا روگ ہے بلا ہے عشق۔
2
इश्क़ ही इश्क़ है जहाँ देखो सारे आलम में भर रहा है इश्क़
عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
اس کا مطلب ہے کہ عشق ہی عشق ہے؛ جہاں کہیں بھی دیکھا جائے، پورے عالم میں عشق پھیل رہا ہے۔
3
इश्क़ है तर्ज़ ओ तौर इश्क़ के तईं कहीं बंदा कहीं ख़ुदा है इश्क़
عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیں کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق
محبت خود ایک انداز اور طریقہ ہے، جو محبت کے ہی رنگ کا ہے؛ کبھی عاشق ہے، کبھی محبوب ہی محبت ہے۔
4
इश्क़ मा'शूक़ इश्क़ आशिक़ है या'नी अपना ही मुब्तला है इश्क़
عشق معشوق عشق عاشق ہے یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
عشق ما'شوق عشق عاشق ہے، یعنی اپنا ہی مُبتلا ہے عشق۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ محبوب کا عشق اور عاشق کا عشق ایک ہی ہے، یعنی عشق خود ہی سب سے زیادہ متاثر کرنے والا ہے۔
5
गर परस्तिश ख़ुदा की साबित की किसू सूरत में हो भला है इश्क़
گر پرستش خدا کی ثابت کی کسو صورت میں ہو بھلا ہے عشق
اگر پرستیش خدا کی ثابت کی، تو بھلا ہے عشق کس صورت میں۔
6
दिलकश ऐसा कहाँ है दुश्मन-ए-जाँ मुद्दई है प मुद्दआ है इश्क़
دلکش ایسا کہاں ہے، اے دشمنِ جان۔ چاہے مدعی ہو یا مدعا، سب عشق ہی ہے۔
7
है हमारे भी तौर का आशिक़ जिस किसी को कहीं हुआ है इश्क़
ہے ہمارے بھی طور کا عاشق جس کسی کو کہیں ہوا ہے عشق
ہم بھی اس طرح کے عاشق ہیں، جسے کسی کو کہیں بھی عشق ہوا ہو۔
8
कोई ख़्वाहाँ नहीं मोहब्बत का तू कहे जिंस-ए-ना-रवा है इश्क़
کوئی خواہاں نہیں محبت کا تو کہے جنس ناروا ہے عشق
محبت میں کوئی خواہ نہیں، بس اگر تو کہے کہ عشق کا جنسِ نَروا ہے۔
9
'मीर'-जी ज़र्द होते जाते हो क्या कहीं तुम ने भी किया है इश्क़
میرؔ جی زرد ہوتے جاتے ہو کیا کہیں تم نے بھی کیا ہے عشق
میر جی، تم زرد ہوتے جاتے ہو؛ کیا تم نے بھی کبھی عشق کیا ہے؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.