کون مقصد کو عشق بن پہنچا — میر تقی میر

کون مقصد کو عشق بن پہنچا آرزو عشق مدعا ہے عشق

“How can one reach a destination (goal) without love? Desire itself is a plea for love.”

— میر تقی میر

معنی

شاعر پوچھتا ہے کہ عشق کے بغیر کوئی مقصَد کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آرزو خود عشق کی ایک پکار ہے۔

تشریح

یہ شعر عشق کی لازمی حیثیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر پوچھتے ہیں کہ کون مقصد کو عشق کے بغیر پا سکتا ہے؟ اور پھر کہتے ہیں کہ رغبتِ عشق خود ایک مطالبہ ہے۔ یعنی، عشق کی چاہت ہی زندگی کا سب سے بڑا حق ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.