शहाँ कि कोहल-ए-जवाहर थी ख़ाक-ए-पा जिन की
उन्हीं की आँखों में फिरते सलाइयाँ देखीं
“Where there was the kohl-like luster of jewels, was the dust of the feet, In those very eyes, I saw the spinning bangles again.”
— میر تقی میر
معنی
جہاں جوہر کی طرح کا काजल تھا، وہاں پاؤں کی خاک تھی؛ انہی آنکھوں میں میں نے پھر سے چمکتے کنگن دیکھے۔
تشریح
یہ شعر جمال کی انتہا کو بیان کرتا ہے۔ शायर کا کہنا ہے کہ آنکھوں کا काजल ایسا تھا، جیسے جن کی دھول ہو۔ اور اس حسن کا اثر اتنا گہرا تھا کہ آنکھوں میں چوڑیاں جھولتی ہوئی نظر آئے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
